گزشتہ دہائی میں تعلیمی اداروں کی تکنیکی ضرورتوں میں ایک سنسنی خیز تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ ایک وقت تھا جب اسکولوں اور کالجوں میں سستے ونڈوز لیپ ٹاپس کا راج ہوا کرتا تھا، لیکن پھر کروم بک کی آمد نے اس منظر نامے کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا۔ گوگل نے انتہائی خاموشی اور حکمت عملی کے ساتھ کروم بک کو تعلیمی اداروں کی پہلی ترجیح بنا دیا اور مائیکروسافٹ کو سخت حیرت میں ڈال دیا۔ یہ کہانی صرف ایک نئے گیجٹ کی کامیابی کی نہیں، بلکہ یہ سمجھنے کی ہے کہ کس طرح سادگی اور بہتر کلاؤڈ سسٹمز نے پیچیدہ اور بھاری سافٹ ویئر کو شکست دی۔
2010ء کے اوائل میں جب زیادہ تر اسکول سستے ونڈوز لیپ ٹاپس اور ڈیسک ٹاپس پر انحصار کر رہے تھے، گوگل نے ایک بالکل مختلف راستہ اختیار کیا۔ کمپنی نے محسوس کیا کہ طالب علموں اور اساتذہ کو بھاری سافٹ ویئر یا انسٹالیشن کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ انہیں ایک ایسی ڈیوائس چاہیے جو فوراً آن ہو اور انٹرنیٹ سے جڑ جائے۔ یہی وہ نقطہ تھا جہاں کروم بک نے پہلی بار تعلیمی میدان میں قدم رکھا۔
گوگل کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ اس نے ہاردوئیر بیچنے کے بجائے تعلیمی نظام کو ایک مکمل کلاؤڈ سولوشن فراہم کیا۔
ونڈوز آپریٹنگ سسٹم اپنی تمام تر صلاحیتوں کے باوجود اسکولوں کے ماحول میں نچلے درجے کے ہاردوئیر پر بہتر کارکردگی دکھانے میں ناکام رہا۔ کم قیمت والے ونڈوز لیپ ٹاپس اکثر وقت کے ساتھ سست ہو جاتے تھے، اور ان میں سیکیورٹی اپ ڈیٹس اور وائرس کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا تھا۔ اس کے علاوہ، IT شعبے کے لیے درجنوں ونڈوز ڈیوائسز کو بیک وقت سنبھالنا ایک مشکل اور خوارکن کام تھا۔
کروم بک کی کامیابی صرف آپریٹنگ سسٹم تک محدود نہیں تھی، بلکہ 'گوگل کلاس روم' اور 'گوگل ڈاکس' جیسے ٹولز نے اس کی مقبولیت میں اہم کردار ادا کیا۔ طالب علم کسی بھی کروم بک پر لاگ ان ہو کر اپنا کام وہیں سے شروع کر سکتے تھے جہاں سے انہوں نے چھوڑا تھا۔ اس سادگی نے روایتی ڈیسک ٹاپ سافٹ ویئر کی ضرورت کو ختم کر دیا۔
جب مائیکروسافٹ کو اس خطرے کا احساس ہوا، تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ اگرچہ مائیکروسافٹ نے بعد میں ونڈوز 10S اور دیگر سستے اختیارات پیش کیے، لیکن وہ کروم بک جیسی سادگی اور یکسانیت فراہم کرنے میں ناکام رہے۔
کیا آپ کے خیال میں ونڈوز مستقبل میں تعلیمی شعبے میں اپنا مقام دوبارہ حاصل کر سکے گا؟ نیچے تبصروں میں اپنی رائے کا اظہار کریں!









