ورچوئل ریئلٹی (VR) کی دنیا دہائیوں سے تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی اور تکنیکی ماہرین اسے ایک ناامید خواب سمجھ کر بھول چکے تھے۔ لیکن 2012 میں ایک 19 سالہ نوجوان کی جنونی سوچ نے اس بظاہر مردہ ٹیکنالوجی میں ایک نئی روح پھونک دی۔ پالمر لکی نے اپنے والدین کے گیراج میں پرانے پرزوں اور ٹیپ کی مدد سے ایک ایسا وی آر ہیڈسیٹ تیار کیا جس نے گیمنگ اور ٹیک انڈسٹری کی بنیادیں ہلا دیں۔ اوکولس کک اسٹارٹر مہم نے نہ صرف 2.4 ملین ڈالر کا فنڈ اکٹھا کیا بلکہ جدید ترین ورچوئل ریئلٹی انڈسٹری کی بنیاد بھی رکھی۔ اس مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ کس طرح اس تاریخی کراؤڈ فنڈنگ نے ورچوئل ریئلٹی کو ایک نئے دور میں داخل کیا۔
نوے کی دہائی میں وی آر ٹیکنالوجی کو لے کر بہت بڑا شور مچایا گیا تھا، لیکن اس دور کے ہیڈسیٹس انتہائی بھاری، گرافکس کے لحاظ سے کمزور اور بے حد مہنگے تھے۔ صارفین کو ان کے استعمال سے سر درد اور متلی جیسی شکایات ہوتی تھیں، جس کی وجہ سے بڑی ٹیک کمپنیوں نے اس پروژیکٹ سے ہاتھ کھینچ لیے اور وی آر کو ناکام تصور کر لیا گیا۔
ورچوئل ریئلٹی اس وقت تک محض ایک خواب تھی جب تک کہ موبائل فون اسکرینز اور جدید سینسرز نے اسے ممکن نہیں بنایا۔
پالمر لکی ایک روایتی انجینئر نہیں تھے بلکہ وہ سستے پرزہ جات جمع کرنے کے شائق تھے۔ انہوں نے اسمارٹ فون انڈسٹری کی پیشرفت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کم قیمت ڈسپلے اور گائروسکوپ کا استعمال کیا اور 'اوکولس رفٹ' کا پہلا نمونہ تیار کیا۔ اس پروٹو ٹائپ نے زبردست 'فیلڈ آف ویو' فراہم کیا جو اس سے پہلے کسی مہنگے سے مہنگے ڈیوائس میں بھی موجود نہیں تھا۔
جب اگست 2012 میں اوکولس کک اسٹارٹر مہم کا آغاز ہوا، تو اس کا ابتدائی ہدف صرف ڈھائی لاکھ ڈالر تھا۔ لیکن وی آر کے شائقین اور گیم ڈیولپرز کی جانب سے ایسا زبردست ردعمل سامنے آیا کہ چند ہی دنوں میں اس مہم نے لاکھوں ڈالر اکٹھے کر لیے۔
اوکولس کی اس غیر معمولی کامیابی نے باقی ٹیک دنیا کو بھی جگا دیا۔ جان کارمیک اور گیب نیوول جیسے عظیم گیمنگ ماسٹرز نے پالمر لکی کے اس ویژن کی کھلے عام حمایت کی۔ اس مہم نے ثابت کر دیا کہ صارفین واقعی ورچوئل ریئلٹی کے تجربے کے منتظر ہیں، بس انہیں صحیح اور سستی ٹیکنالوجی کی ضرورت تھی۔
اوکولس کک اسٹارٹر کی کامیابی کا سب سے بڑا نتیجہ 2014 میں سامنے آیا جب فیس بک (موجودہ میٹا) نے اوکولس کو دو بلین ڈالر میں خرید لیا۔ اس تاریخی سودے نے ورچوئل ریئلٹی کو محض گیمنگ کے شعبے سے نکال کر میٹاورس اور بین الاقوامی مواصلات کا سب سے بڑا ذریعہ بنا دیا۔ آج جو میٹا کویسٹ ہیڈسیٹس ہم دیکھتے ہیں، ان کی روح اسی کک اسٹارٹر مہم میں پوشیدہ ہے۔
کیا آپ کے خیال میں ورچوئل ریئلٹی مستقبل میں اسمارٹ فونز کی جگہ لے سکے گی؟ کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں!









